پاکستان کے معدنی ذخائر کی مالیت کا تخمینہ 8 ہزار ارب ڈالر ہے۔ عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 12 اور 13 نومبر کو اسلام آباد میں ہوگا۔
کراچی: پاکستان کے معدنی ذخائر کی مجموعی مالیت کا تخمینہ 8 ہزار ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جبکہ ملک میں اب تک 92 اقسام کی معدنیات دریافت ہو چکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے 52 معدنیات تجارتی بنیادوں پر نکالی جا رہی ہیں، تاہم معدنی شعبے کا ملکی مجموعی قومی پیداوار میں حصہ 3 فیصد سے بھی کم ہے۔
پاکستان کے معدنی وسائل کو عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کرنے اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 کا انعقاد 12 اور 13 نومبر کو جناح کنونشن سینٹر، اسلام آباد میں کیا جائے گا۔ فورم میں ملک کے معدنی وسائل اور سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق ریکوڈک منصوبہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے بڑے منصوبوں میں شامل ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں 2028 کے اختتام تک پیداوار شروع ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ ریکوڈک سے سالانہ تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار ٹن تانبا اور 2 لاکھ 97 ہزار اونس سونا حاصل ہونے کا امکان بتایا گیا ہے۔
معدنی شعبے کی ترقی کے حوالے سے پاکستان اور امریکی کمپنی یو ایس اسٹریٹجک میٹلز کے درمیان اہم معدنیات کی ترقی سے متعلق معاہدے بھی کیے گئے ہیں۔ ان معاہدوں کا ذکر ملک میں معدنی وسائل کی ترقی اور سرمایہ کاری کی کوششوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ مؤثر پالیسیوں اور سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان کی معدنی برآمدات کا حجم 3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 8 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ ایک متوقع ہدف ہے، نہ کہ حاصل شدہ برآمدی حجم۔
پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 میں ملکی معدنی وسائل، موجودہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے امکانات کو عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کیا جائے گا، تاکہ معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔