ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں ملک فلاور درختوں کی تیز خوشبو سے شہری پریشان ہیں۔ حکام نے پانچ روز میں تقریباً 7 فیصد درختوں کے پھول کاٹ دیے۔
ہنوئی: ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں اپنی دلکش اور میٹھی خوشبو کے لیے مشہور درخت بعض شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بن گئے ہیں۔ پھولوں کی تیز مہک سے سردرد، مائیگرین اور دیگر تکالیف کی شکایات سامنے آنے کے بعد مقامی حکام نے سیکڑوں درختوں کے پھول کاٹنے کی مہم شروع کی ہے، جبکہ بعض درختوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی 20 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق ہنوئی میں یہ درخت مقامی زبان میں 'ہوا سوا' (Hoa Sua) یا 'ملک فلاور' کہلاتے ہیں۔ انہیں انگریزی میں بلیک بورڈ ٹری بھی کہا جاتا ہے، جبکہ ان کا سائنسی نام Alstonia scholaris ہے۔ یہ درخت اپنے چھوٹے سبزی مائل سفید پھولوں اور مخصوص میٹھی مگر تیز خوشبو کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔
ان درختوں کے پھول شام ڈھلتے ہی زیادہ نمایاں خوشبو خارج کرتے ہیں۔ ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں پھول کھلنے کے موسم کے دوران یہ مہک خاص طور پر تیز ہو جاتی ہے۔ ہنوئی میں اس خوشبو کو کئی دہائیوں سے موسم خزاں کی آمد کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے اور اس کا ذکر مقامی شاعری اور موسیقی میں بھی ملتا ہے۔
شہری انتظامیہ کے اعدادوشمار کے مطابق ہنوئی میں ایسے درختوں کی تعداد تقریباً 14 ہزار 400 ہے۔ یہ درخت شہر کی مختلف سڑکوں اور شاہراہوں کے کنارے موجود ہیں۔ انہیں انیسویں صدی کے آخر میں فرانسیسی نوآبادیاتی دور میں یہاں متعارف کرایا گیا تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ شہر کے قدرتی منظرنامے کا نمایاں حصہ بن گئے۔
تاہم خوشبو کی شدت کے بارے میں شہریوں کی آرا مختلف ہیں۔ بعض افراد کو ان پھولوں کی مہک بہت پسند ہے، جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ شام کے وقت یہ اتنی تیز ہو جاتی ہے کہ معمول کی سرگرمیاں متاثر ہونے لگتی ہیں۔ بعض رہائشیوں نے سردرد اور مائیگرین کی شکایت بھی کی ہے۔
رائٹرز سے گفتگو میں ہنوئی کے 43 سالہ رہائشی نگوین ہا لونگ نے بتایا کہ درختوں کی تیز خوشبو کے باعث انہیں مائیگرین ہونے لگتا تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے شام کے وقت دوڑ لگانے کا معمول ترک کر دیا۔ اس مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ہی خوشبو مختلف افراد کے لیے مختلف تجربات کا باعث بن سکتی ہے۔
شہریوں کی مسلسل شکایات کے بعد ہنوئی کے حکام نے پھولوں کی کٹائی کی ایک وسیع مہم شروع کی۔ پانچ روزہ کارروائی کے دوران شہر کے تقریباً 7 فیصد بلیک بورڈ درختوں سے پھولوں کی تراش خراش کی گئی۔ اس اقدام کا مقصد درختوں کو مکمل طور پر ختم کرنا نہیں بلکہ پھولوں کی تعداد اور ان سے خارج ہونے والی تیز مہک کو کم کرنا ہے۔
حکام ان مقامات سے بعض درختوں کی منتقلی پر بھی غور کر رہے ہیں جہاں یہ بڑی تعداد میں ایک دوسرے کے قریب لگے ہوئے ہیں۔ اس تجویز کا مقصد گنجان علاقوں میں خوشبو کی شدت کم کرنا ہے، تاہم تمام درختوں کی منتقلی یا بڑے پیمانے پر انہیں کاٹ کر ختم کرنے کا کوئی اعلان رپورٹ میں نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب انتظامیہ کے فیصلے سے تمام شہری مطمئن نہیں ہیں۔ بعض رہائشیوں کے نزدیک ہوا سوا کے درخت ہنوئی کی ثقافتی شناخت، قدرتی خوبصورتی اور موسم خزاں کی یادوں کا اہم حصہ ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان درختوں کی خوشبو شہر کی ایک منفرد خصوصیت ہے جسے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔
رائٹرز کی رپورٹ میں مقامی رہائشی نگوین تھو ترانگ نے ان درختوں کی خوشبو سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق ان کا خاندان کئی دہائیوں سے اسی علاقے میں مقیم ہے اور انہیں یہ مہک پسند ہے، اس لیے درختوں کے پھول کاٹے جانے پر افسوس ہوتا ہے۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ان پھولوں کی خوشبو بذات خود زہریلی نہیں سمجھی جاتی۔ تاہم دوسرے پودوں کی طرح ان درختوں کا پولن یعنی زرگل بعض حساس افراد میں الرجی کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی لیے ماہرین نے گنجان آباد مقامات پر ان درختوں کی زیادہ تعداد اور خوشبو کے ارتکاز کو محدود رکھنے کی تجویز دی ہے۔
ہنوئی میں جاری یہ بحث شہریوں کی صحت اور سہولت کے ساتھ قدرتی ماحول اور ثقافتی شناخت کے تحفظ سے متعلق مختلف ترجیحات کو سامنے لاتی ہے۔ مقامی انتظامیہ کی کوشش خوشبو سے متاثر ہونے والے رہائشیوں کی مشکلات کم کرنے کی ہے، جبکہ بعض شہری ان درختوں کے روایتی اور جمالیاتی کردار کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔