جیف بیزوس نے پیش گوئی کی ہے کہ 2045 تک لاکھوں انسان خلا میں رہائش اختیار کر سکتے ہیں، جبکہ چاند پر مشکل اور مہنگے کام روبوٹس انجام دیں گے۔
نیویارک: ایمازون اور خلائی کمپنی بلیو اوریجن کے بانی جیف بیزوس نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ تقریباً دو دہائیوں میں خلائی ٹیکنالوجی اتنی ترقی کر سکتی ہے کہ لاکھوں انسان زمین سے باہر خلا میں رہائش اختیار کر سکیں گے۔ ان کے مطابق مستقبل میں چاند اور دیگر مقامات پر مشکل کاموں کے لیے انسانوں کے بجائے روبوٹس بھیجنا زیادہ مؤثر اور کم خرچ ثابت ہو سکتا ہے۔
جیف بیزوس نے یہ خیالات اکتوبر 2025 میں اٹلی کے شہر تورین میں منعقد ہونے والی اٹالین ٹیک ویک کے دوران پیش کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں زندہ لوگوں کے پاس مستقبل کے بارے میں پُرامید رہنے کی بہت سی وجوہات ہیں، کیونکہ ٹیکنالوجی میں تیزی سے ہونے والی ترقی نئے امکانات پیدا کر رہی ہے۔
بیزوس کے مطابق اگلے تقریباً بیس برسوں میں خلا میں لاکھوں افراد کی رہائش ممکن ہو سکتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ان میں سے بیشتر لوگ وہاں اپنی خواہش اور دلچسپی کی بنیاد پر رہیں گے، نہ کہ اس لیے کہ کسی ضروری کام کو انجام دینے کے لیے انسانوں کی وہاں موجودگی لازمی ہوگی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ روبوٹک ٹیکنالوجی مسلسل بہتر ہو رہی ہے۔ اگر مستقبل میں چاند کی سطح یا خلا کے کسی دوسرے مقام پر کوئی مشکل کام کرنا ہو تو اس مقصد کے لیے انسانوں کو بھیجنے کے بجائے جدید روبوٹس استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ بیزوس کے خیال میں یہ طریقہ انسانی خلائی مشن کے مقابلے میں زیادہ کم خرچ ہوگا۔
ان کا یہ تصور خلائی رہائش اور خلائی کاموں کے درمیان ایک اہم فرق کی نشاندہی کرتا ہے۔ بیزوس کے مطابق خلا میں مستقل رہائش اختیار کرنا مستقبل میں انسانوں کا اختیاری فیصلہ ہو سکتا ہے، جبکہ خطرناک یا پیچیدہ کاموں کے لیے روبوٹک نظام زیادہ موزوں ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ ایک پیش گوئی ہے، کسی مکمل یا منظور شدہ آبادکاری منصوبے کا اعلان نہیں۔
مصنوعی ذہانت کی ترقی، ملازمتوں کے مستقبل اور انسانی تہذیب پر نئی ایجادات کے اثرات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بیزوس نے ٹیکنالوجی کے حوالے سے مثبت نقطۂ نظر پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی معاشرے کی خوش حالی میں ایجادات نے ہمیشہ بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہزاروں سال پہلے ہل جیسی ایجاد نے انسانی زندگی اور زرعی سرگرمیوں میں بہتری پیدا کی تھی۔ ان کے مطابق نئی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت بھی اسی تاریخی سلسلے کا حصہ ہیں اور مستقبل میں ترقی کے مزید مواقع فراہم کر سکتی ہیں۔
خلا میں انسانی رہائش اور روزگار کے امکانات پر جیف بیزوس واحد کاروباری شخصیت نہیں ہیں جو پُرامید ہیں۔ اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین بھی مستقبل میں خلا سے متعلق نئی ملازمتوں کے امکانات پر گفتگو کر چکے ہیں۔ ان کی پیش گوئی کے مطابق آئندہ دس برسوں کے دوران یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوانوں کو خلا میں کام کرنے کے نئے اور ممکنہ طور پر زیادہ معاوضے والے مواقع دستیاب ہو سکتے ہیں۔
آلٹمین کا خیال ہے کہ ٹیکنالوجی میں ترقی کے نتیجے میں مستقبل کی نئی نسل کے لیے کام کی نوعیت گزشتہ نسلوں کے ابتدائی پیشہ ورانہ تجربات سے مختلف اور زیادہ دلچسپ ہو سکتی ہے۔ تاہم خلا میں اس نوعیت کی ملازمتوں کی وسیع دستیابی فی الحال ایک مستقبل کا امکان ہے، موجودہ حقیقت نہیں۔
دوسری جانب ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک بھی انسانوں کو دوسرے سیاروں تک پہنچانے کے منصوبوں کے حامی ہیں۔ وہ مریخ پر انسانی موجودگی کے بارے میں مختلف اوقات میں پُرامید اہداف پیش کرتے رہے ہیں، جن میں 2028 تک انسانوں کے مریخ پہنچنے کا امکان بھی شامل ہے۔ اسپیس ایکس کی جانب سے انسانوں کے بغیر آزمائشی مشن پہلے بھیجنے کے منصوبوں پر بھی گفتگو ہوتی رہی ہے۔
تاہم مریخ تک انسانی پرواز کے لیے درکار تکنیکی تیاری، خلائی جہازوں کی آزمائش، مسافروں کی حفاظت اور دیگر انتظامی تقاضے اہم چیلنجز ہیں۔ اس لیے اعلان کردہ اہداف کو حتمی یا تصدیق شدہ پروازی شیڈول نہیں سمجھنا چاہیے۔
خلائی صنعت سے وابستہ ایک اور کاروباری شخصیت، وائجر ٹیکنالوجیز کے بانی اور چیف ایگزیکٹو ڈیلن ٹیلر نے اگست 2026 میں امریکی جریدے فارچون کو بتایا تھا کہ مستقبل میں انسانوں کا خلا میں رہنا اور کام کرنا محض سائنسی تصور تک محدود نہیں رہے گا۔
ڈیلن ٹیلر کے مطابق چاند پر انسانی رہائش اور کام کے امکانات 2030 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں۔ انہوں نے چاند پر مستقبل میں ایسے اڈوں کا تصور پیش کیا جہاں لوگ رہائش اختیار کریں اور مختلف پیشہ ورانہ سرگرمیاں انجام دیں۔ یہ بھی ان کی پیش گوئی ہے، کسی موجودہ بڑے انسانی قمری اڈے کی تصدیق نہیں۔
بیزوس، آلٹمین، مسک اور ٹیلر کی پیش گوئیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلائی صنعت سے وابستہ نمایاں شخصیات انسانی سرگرمیوں کو زمین سے باہر پھیلانے کے امکانات پر غور کر رہی ہیں۔ تاہم ان کے مجوزہ اہداف، ترجیحات اور ممکنہ اوقات ایک جیسے نہیں ہیں۔
ماہرین اور خلائی صنعت کے لیے بڑے پیمانے پر انسانی آبادکاری سے متعلق کئی عملی سوالات اب بھی موجود ہیں۔ ان میں محفوظ رہائش، خوراک اور پانی کی مسلسل فراہمی، آکسیجن، توانائی، تابکاری سے تحفظ، طبی سہولتیں، طویل خلائی سفر کے انسانی جسم پر اثرات، سامان کی ترسیل اور مجموعی اخراجات شامل ہیں۔
اس لیے 2045 تک خلا میں لاکھوں انسانوں کی آبادکاری کو ایک اہم مگر غیر یقینی پیش گوئی کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ فی الحال یہ طے نہیں کہ مطلوبہ ٹیکنالوجی، اقتصادی وسائل اور بین الاقوامی انتظامات اس مدت میں کس حد تک دستیاب ہوں گے۔