کراچی سیف سٹی کیمروں کی مدد سے جنوری تا ستمبر 2026 میں 79 مطلوب افراد اور 936 گاڑیاں پولیس کے حوالے کی گئیں، جبکہ 566 مقدمات میں معاونت فراہم ہوئی۔
کراچی: آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کراچی سیف سٹی منصوبے کے تحت جرائم میں ملوث ملزمان کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے دستیاب تکنیکی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے منصوبے کے مختلف مراحل پر جاری کام کی رفتار تیز کرنے اور معیار، شفافیت اور بروقت تکمیل یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔
سینٹرل پولیس آفس کراچی میں آئی جی سندھ کی زیر صدارت سندھ سیف سٹیز اتھارٹی کی مینجمنٹ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں کراچی سیف سٹی منصوبے کے پہلے مرحلے کے آپریشن اور دیکھ بھال سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی جی سندھ سیف سٹیز اتھارٹی سرفراز نواز، متعلقہ منصوبہ جاتی و تکنیکی حکام، اے آئی جی ایڈمن اور محکمہ داخلہ و خزانہ کے نمائندوں نے شرکت کی۔
ڈی جی سندھ سیف سٹیز اتھارٹی سرفراز نواز نے بریفنگ میں بتایا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت کراچی کے 6 اضلاع، جنوبی، شرقی، ملیر، کیماڑی، سٹی اور کورنگی میں 300 کیمرا پول سائٹس فعال ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران سیف سٹی کیمروں کی مدد سے 936 مطلوب یا خلاف ورزی کی مرتکب گاڑیوں اور 79 مطلوب افراد کو پولیس کے حوالے کیا گیا۔ اسی عرصے میں 566 مقدمات میں ملزمان کی نشاندہی کے لیے کراچی پولیس کو تکنیکی معاونت فراہم کی گئی۔
بریفنگ کے مطابق اس عرصے میں مطلوب گاڑیوں سے متعلق 338 درخواستیں جبکہ مطلوب افراد کے حوالے سے 25 درخواستیں موصول ہوئیں۔ ضلع جنوبی اور ضلع شرقی میں ڈکیتی کی حالیہ اہم وارداتوں میں ملوث ملزمان کا سراغ لگانے اور ان کی گرفتاری میں بھی سیف سٹی کیمروں نے مدد فراہم کی۔
اجلاس میں اسمارٹ ایمرجنسی رسپانس گاڑیوں کو موبائل نگرانی اور فوری کارروائی کے لیے استعمال کرنے اور ان کی برانڈنگ سے متعلق تجاویز پر غور کیا گیا۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے سندھ سیف سٹیز اتھارٹی کی معاونت کو سراہتے ہوئے کراچی پولیس کو ہدایت کی کہ جرائم کی روک تھام اور قانون کے مؤثر نفاذ کے لیے تکنیکی سہولتوں کا بھرپور استعمال کیا جائے۔
انہوں نے نمبر پلیٹوں میں ردوبدل اور بلیک لسٹ گاڑیوں کی نشاندہی کے لیے ٹریفک پولیس کے اشتراک سے خصوصی یونٹ تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ ساتھ ہی متعلقہ ایس ایس پیز انویسٹی گیشن سے رابطے مضبوط بنانے پر زور دیا تاکہ چوری شدہ اور چھینی گئی گاڑیوں کی جلد برآمدگی ممکن بنائی جا سکے۔
آئی جی سندھ نے ہدایت کی کہ سیف سٹی منصوبے کے تمام مراحل میں کام مزید تیز کیا جائے اور معیار، شفافیت اور مقررہ وقت میں تکمیل یقینی بنائی جائے۔