کپاس پر کیڑوں کے حملوں سے پیداوار اور معیار متاثر، روئی کا اسپاٹ ریٹ 600 روپے بڑھ کر 18 ہزار 400 روپے فی من ہوگیا، ٹیکسٹائل شعبے کو مشکلات کا سامنا۔
مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے روئی کی قیمتوں میں ملا جلا رجحان رہا اور کاروباری سرگرمیاں محدود رہیں۔ نیویارک کاٹن مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے اثرات مقامی منڈی پر بھی مرتب ہوئے۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے روئی کے اسپاٹ ریٹ میں فی من 600 روپے اضافہ کرکے اسے 18 ہزار 400 روپے مقرر کردیا۔
کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان کے مطابق بین الاقوامی منڈی میں نیویارک کاٹن کے وعدے کے نرخ 80 سے 85 امریکی سینٹ فی پاؤنڈ کے درمیان رہے۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی مارکیٹ میں بڑے ٹیکسٹائل گروپ عالمی قیمتوں میں کمی کے وقت درآمدی روئی خریدنے میں دلچسپی لیتے ہیں، جبکہ عالمی نرخ بڑھنے پر مقامی روئی کی خریداری کو ترجیح دیتے ہیں۔
نسیم عثمان نے کہا کہ رواں سیزن میں مقامی کپاس کے معیار کے بارے میں خدشات کے باعث ٹیکسٹائل ملز مالکان محتاط ہیں۔ بعض علاقوں میں کیڑوں کے حملوں سے کپاس کی پیداوار اور معیار متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جنرز کو کاروباری دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ کاشتکاروں کو نسبتاً بہتر قیمتیں مل رہی ہیں۔
ان کے مطابق سندھ کے عمرکوٹ اور ملحقہ علاقوں میں اس سال کپاس کی کاشت گزشتہ سیزن کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہوئی، تاہم گزشتہ ایک ماہ کے دوران ملی بگ، گلابی سنڈی اور سفید مکھی سمیت مختلف کیڑوں نے کئی علاقوں میں فصل کو نقصان پہنچایا۔ سندھ کے دوسرے کپاس پیدا کرنے والے علاقوں سے بھی ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بلوچستان کی کپاس کا معیار نسبتاً بہتر ہونے کی وجہ سے سندھ کے بعض جنرز اسے دوسری کپاس میں ملا کر مجموعی معیار بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
گزشتہ ہفتے سندھ میں معیار کے لحاظ سے روئی کی قیمت 18 ہزار سے 18 ہزار 400 روپے فی من اور پھٹی کی قیمت 7 ہزار 800 سے 9 ہزار روپے فی 40 کلو رہی۔ پنجاب میں روئی 18 ہزار 300 سے 18 ہزار 800 روپے فی من اور پھٹی 8 ہزار 500 سے 9 ہزار 500 روپے فی 40 کلو فروخت ہوئی۔ بلوچستان میں روئی کے نرخ 18 ہزار 400 سے 18 ہزار 500 روپے فی من اور پھٹی کے نرخ 8 ہزار 800 سے 9 ہزار 500 روپے فی 40 کلو رہے۔ بنولہ، کھل اور تیل کی قیمتیں نسبتاً مستحکم رہیں۔
امریکی محکمہ زراعت کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق 2026-27 کے لیے عالمی منڈی میں ایک لاکھ 65 ہزار 100 گانٹھوں کی فروخت ہوئی۔ خریداروں میں ویتنام 61 ہزار 800 گانٹھوں کے ساتھ پہلے، پاکستان 45 ہزار 900 کے ساتھ دوسرے اور بھارت 20 ہزار 800 گانٹھوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔
رپورٹ کے مطابق 2027-28 کے لیے 56 ہزار 100 گانٹھوں کی فروخت ہوئی، جن میں چین نے 44 ہزار 100، ہونڈوراس نے 10 ہزار 400 اور جاپان نے ایک ہزار 600 گانٹھیں خریدیں۔ رپورٹ میں برآمدات ایک لاکھ 61 ہزار 600 گانٹھیں بتائی گئیں۔ ان میں ویتنام کے لیے 39 ہزار 600، بھارت کے لیے 18 ہزار 100، میکسیکو کے لیے 17 ہزار 900 اور پاکستان کے لیے 16 ہزار 500 گانٹھیں شامل تھیں۔
کاٹن مارکیٹ سے وابستہ حلقوں کے مطابق روئی کے کاروبار میں مالی بے یقینی اور ادائیگیوں کے مسائل بھی تشویش پیدا کررہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ٹنڈو آدم کے ایک جنر پر 65 کروڑ روپے اور فیصل آباد کی یارن مارکیٹ کے ایک تاجر پر 20 کروڑ روپے کے مبینہ مالی گھپلوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق یا متعلقہ فریقوں کا مؤقف فراہم کردہ رپورٹ میں موجود نہیں۔ اسی طرح کراچی کی ایک گارمنٹس فیکٹری کو درآمدی ملبوسات کی ادائیگیوں میں مشکلات کے باعث تقریباً 300 کارکنوں کو فارغ کرنا پڑا۔
فیصل آباد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ٹیکسٹائل شعبے میں بعض لومز بند ہوتی جارہی ہیں۔ صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے کاروباری حلقوں میں تشویش بڑھ رہی ہے اور شہر کی ٹیکسٹائل صنعت شدید دباؤ کا شکار ہے۔
دنیا بھر میں 7 اکتوبر کو ورلڈ کاٹن ڈے منایا گیا۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے اس موقع پر فیڈریشن ہاؤس، مین کلفٹن میں تقریب منعقد کی، جس میں کپاس کی پیداوار بڑھانے، معیار بہتر بنانے اور مقامی ٹیکسٹائل صنعت کی خام مال کی ضروریات پوری کرنے پر زور دیا گیا۔
تقریب سے خطاب میں کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد عاطف شکور نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کپاس کی پیداوار اور معیار بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں، تاکہ درآمدات پر انحصار کم اور قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوسکے۔
ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین رضوان اقبال عمر نے معیار، پیداوار اور کاشتکاروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ وائس چیئرمین پریم چند نے تجویز دی کہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن، آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن اور پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن حکومت کے ساتھ مل کر پیداوار میں اضافے اور معیاری بیج کی دستیابی کا معاملہ اٹھائیں۔
سابق چیئرمین خواجہ ایم زبیر نے صحت مند اور تصدیق شدہ بیج کی فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا۔ محمد عارف پراچہ نے کپاس کی مؤثر تشہیر اور فروخت بڑھانے کے لیے جامع حکمت عملی تجویز کی، جبکہ چندر لال نے کہا کہ حکومت کو قومی معیشت میں کپاس کی اہمیت سے آگاہ کرنا ضروری ہے، کیونکہ پیداوار میں اضافہ تجارتی خسارہ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
کاٹن مارکیٹ کے بعض حلقوں نے اس بات پر مایوسی ظاہر کی کہ ایسوسی ایشن کی روایتی تقریب اس مرتبہ کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت کے بجائے فیڈریشن ہاؤس میں منعقد ہوئی۔ ان حلقوں کے مطابق 13 دسمبر 2025 سے ای ٹی پی بی نے ایف آئی اے کی مدد سے کاٹن ایکسچینج کی عمارت پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اس دعوے پر متعلقہ اداروں کا مؤقف فراہم کردہ رپورٹ میں شامل نہیں، اس لیے معاملے کی مکمل صورتحال واضح نہیں۔
دوسری جانب آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن اور چین اسٹور ایسوسی ایشن آف پاکستان نے درآمدی خوردہ مصنوعات کے متبادل کے طور پر مقامی اشیا متعارف کرانے اور پاکستانی فیشن برانڈز کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے مشترکہ کوشش شروع کی ہے۔ اس سلسلے میں لاہور کے اپٹما ہاؤس میں پہلا مینوفیکچرنگ ریٹیل ورکنگ سیشن ہوا، جس میں معروف ریٹیل برانڈز اور بڑے ٹیکسٹائل مینوفیکچررز نے شرکت کی۔
یہ اقدام اپٹما کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس میں ٹیکسٹائل برآمدات 12 ماہ کے اندر 3 ارب ڈالر اور آئندہ چند برسوں میں ویلیو ایڈیشن، صنعتی تعاون اور پاکستانی برانڈز کی عالمی توسیع کے ذریعے 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔