وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی عالمی امن کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق پرامن حل پر زور دیا اور سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارت کے یک طرفہ فیصلے کو غیرقانونی قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا پرامن حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر التوا میں رکھنے کے بھارتی فیصلے کو قانونی بنیاد سے محروم قرار دیا۔
وزیراعظم آفس کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پاکستان کے دورے پر موجود اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے معزز مہمان کا استقبال کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے منشور، کثیرالجہتی تعاون، بین الاقوامی قانون، مذاکرات اور تنازعات کے پرامن تصفیے کے لیے ان کے اصولی مؤقف کو سراہا۔
انہوں نے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے انتونیو گوتریس کی عالمی امن اور سلامتی کے لیے خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے ایک مؤثر، جامع اور نمائندہ اقوام متحدہ کے قیام کے لیے پاکستان کے عزم کی تجدید کرتے ہوئے کہا کہ کثیرالجہتی نظام کو درپیش سنگین چیلنجز کے باعث عالمی ادارے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے سیکریٹری جنرل کے یو این 80 اقدام کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اقوام متحدہ میں اصلاحات کرتے وقت ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازعات کی روک تھام، پرامن تصفیے اور قیام امن کے طریقہ کار کو مزید مؤثر بنایا جانا چاہیے۔
شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی امن کارروائیوں میں پاکستان کی دیرینہ شرکت اور عالمی امن و سلامتی کے لیے ملک کی مسلسل خدمات کا بھی ذکر کیا۔
سفارتی کوششوں پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے مذاکرات کے فروغ اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے اقدامات بیان کیے، جن میں امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار بھی شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تنازعات کے حل اور حالات کو مزید کشیدہ ہونے سے روکنے کا واحد قابل عمل راستہ مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔
علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے مسئلے کا حل سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق پرامن طریقے سے تلاش کیا جانا چاہیے۔
سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے وزیراعظم نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے اور بھارت کی جانب سے اسے یک طرفہ طور پر التوا میں رکھنے کے فیصلے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔
وزیراعظم نے افغانستان کے بارے میں کہا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی اور وہاں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی پر گہری تشویش ظاہر کی اور ان گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق کارروائیوں کا مطالبہ کیا۔
فلسطین کی صورتحال پر گفتگو میں شہباز شریف نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کے حق کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے غزہ امن منصوبے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عمل درآمد کے لیے بھی پاکستان کی حمایت برقرار رکھنے کا یقین دلایا۔
وزیراعظم نے ترقی پذیر ممالک کی معاشی ترقی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے کم لاگت اور رعایتی مالی وسائل تک زیادہ رسائی فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی ادارے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی دیرینہ خدمات کی تعریف کی۔ انہوں نے خصوصاً اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کی نمایاں شرکت اور سلامتی کونسل میں اس کے تعمیری کردار کو سراہا۔
انتونیو گوتریس نے مذاکرات، ثالثی اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کثیرالجہتی تعاون اور اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں سے پاکستان کی مسلسل وابستگی کا خیرمقدم کیا۔
ملاقات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور ان کے وفد کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کیا۔