شہزادہ ہیری نے کنگ چارلس اور پرنس ولیم سے صلح کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں پہلے ہی بہت مسائل ہیں، خاندانی اختلافات جاری رکھنا مناسب نہیں۔
نیویارک: برطانوی شہزادہ ہیری نے اپنے والد کنگ چارلس سوم اور بڑے بھائی پرنس ولیم سے تعلقات بہتر بنانے اور طویل عرصے سے جاری خاندانی اختلافات ختم کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا میں پہلے ہی بہت سے مسائل موجود ہیں اور خاندان کے ساتھ اختلافات جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
ڈیوک آف سسیکس شہزادہ ہیری نے امریکی جریدے جی کیو (GQ) کو نیویارک میں دیے گئے ایک انٹرویو میں خاندانی رشتوں، ماضی کے تلخ تجربات اور صلح کی اہمیت پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ والدین اور بچوں کے درمیان تنازعات اور بہن بھائیوں کے خراب تعلقات ایسے مسائل ہیں جن کا بہت سے خاندانوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شہزادہ ہیری کے مطابق ان سے ملنے والے بہت سے افراد خاندانی اختلافات کا ذکر کرتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف شاہی خاندان تک محدود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ ان کے خاندانی معاملات کو دیکھ کر سوچتے ہیں کہ یہ اختلافات کیسے ختم ہوں گے اور ممکن ہے کہ اس تجربے سے انہیں اپنے مسائل حل کرنے کے لیے بھی کوئی رہنمائی ملے۔
ہیری نے واضح کیا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا اور لوگوں کی زندگیوں میں پہلے ہی کافی مسائل موجود ہیں، اس لیے خاندان کے اندر کشیدگی برقرار رکھنے کے بجائے صلح کی کوشش زیادہ اہم ہے۔
ماضی کے زخم بھرنے کے امکان کے بارے میں سوال پر شہزادہ ہیری نے کہا کہ بعض تجربات کے نشان ہمیشہ باقی رہ سکتے ہیں، تاہم انسان کو ماضی سے آگے بڑھنے اور اپنے رویے اور سوچ میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق پرانی تلخیوں کو روزمرہ زندگی پر مسلسل حاوی رہنے دینا آگے بڑھنے کے عمل کو مشکل بنا دیتا ہے۔
انٹرویو میں ہیری نے بچوں آرچی اور للیبیٹ کی تعلیم اور برطانیہ واپسی سے متعلق معاملات پر بھی بات کی۔ ہیری، ان کی اہلیہ میگھن مارکل اور دونوں بچے اگست 2026 میں دوبارہ برطانیہ منتقل ہوئے تھے۔ ان کے بچوں نے برطانوی اسکول میں تعلیم شروع کی ہے۔ ہیری اپنے بچوں کے لیے برطانوی اور امریکی ثقافتی تجربات کو اہم سمجھتے ہیں۔
اپنی والدہ شہزادی ڈیانا کی وفات کے بعد پیش آنے والے غم اور ذہنی صدمے پر گفتگو کرتے ہوئے ہیری نے بتایا کہ وہ اپنے ذاتی تجربات دوسروں کے ساتھ ہمدردی حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایسے لوگوں کی مدد کے لیے بیان کرتے ہیں جو اسی نوعیت کے مشکل حالات سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی میں جذباتی مشکلات اور ان سے نمٹنے کے لیے حاصل ہونے والی معاونت پر بھی بات کی۔
انٹرویو کے بعد شہزادہ ہیری کے ترجمان نے وضاحت کی کہ ان کے بیانات کا مقصد پرنس ولیم یا شاہی خاندان کے کسی دوسرے فرد پر تنقید کرنا نہیں تھا۔ ترجمان کے مطابق یہ گفتگو خاندانی اختلافات اور صلح کی اہمیت کے عمومی تناظر میں کی گئی تھی۔
شہزادہ ہیری اور شاہی خاندان کے درمیان اختلافات کئی برسوں سے زیر بحث رہے ہیں۔ سن 2020 میں ہیری اور میگھن نے شاہی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو کر امریکا میں سکونت اختیار کی، جس کے بعد شاہی خاندان کے اندر کشیدگی زیادہ نمایاں ہوئی۔ دونوں نے میڈیا کے رویے، نجی زندگی میں مداخلت اور شاہی ادارے میں اپنے تجربات سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
سن 2021 میں اوپرا ونفری کو دیا گیا انٹرویو اور 2023 میں شہزادہ ہیری کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب 'اسپیئر' کی اشاعت نے ان اختلافات کو مزید عوامی بحث کا موضوع بنایا۔ ان معاملات میں پرنس ولیم کے ساتھ تعلقات، شہزادی ڈیانا کی وفات کے بعد کے تجربات اور شاہی خاندان میں مختلف ذمہ داریوں سے متعلق سوالات بھی شامل رہے۔
ستمبر 2025 میں شہزادہ ہیری نے کنگ چارلس سے ملاقات کی تھی۔ اس کے بعد جولائی 2026 میں کنگ چارلس نے ہیری، میگھن اور ان کے بچوں سے برطانیہ میں ملاقات کی۔ یہ خاندانی روابط میں ایک اہم پیش رفت تھی، تاہم پرنس ولیم کے ساتھ مکمل صلح کی تصدیق نہیں ہوئی۔
تازہ انٹرویو میں شہزادہ ہیری نے ایک مرتبہ پھر اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ خاندان کے درمیان فاصلے کم ہوں اور ماضی کے اختلافات کو پیچھے چھوڑ کر تعلقات بہتر بنانے کی راہ اختیار کی جائے۔