برطانیہ میں تحقیق کے مطابق کرائے کے مکان میں رہائش، کرایے کی ادائیگی میں تاخیر اور خراب رہائشی ماحول کا تعلق حیاتیاتی عمر تیزی سے بڑھنے سے سامنے آیا ہے۔
برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کرائے کے مکان میں رہائش، مالی ادائیگیوں میں تاخیر اور گھر کے خراب ماحولیاتی حالات کا تعلق حیاتیاتی عمر میں تیز رفتار اضافے سے ہوسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق رہائشی عدم تحفظ اور مالی مشکلات نہ صرف روزمرہ زندگی بلکہ انسانی صحت پر بھی اثرانداز ہوسکتی ہیں۔
یونیورسٹی آف ایسیکس اور یونیورسٹی آف ایڈیلیڈ کے محققین نے رہائشی حالات اور انسانی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا۔ اس مقصد کے لیے کرائے پر رہنے کی مدت، عمارت کی نوعیت، رہائشی اخراجات اور کرایے کے بقایا جات سمیت مختلف عوامل کا تجزیہ کیا گیا۔
محققین نے شرکا کی حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگانے کے لیے ڈی این اے میتھیلیشن سے متعلق پیمائشوں کا جائزہ لیا۔ ان پیمائشوں کی مدد سے جسم میں عمر رسیدگی سے وابستہ حیاتیاتی تبدیلیوں کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔
تحقیق کے نتائج میں کرائے کے مکان میں رہائش اور حیاتیاتی عمر کے تیزی سے بڑھنے کے درمیان نمایاں تعلق سامنے آیا۔ محققین کے مطابق بعض تجزیوں میں اس تعلق کی شدت بے روزگاری یا سگریٹ نوشی سے وابستہ اثرات سے بھی زیادہ پائی گئی۔
مطالعے میں شرکا کی سابقہ رہائشی صورت حال کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ نتائج کے مطابق بار بار کرایے کے بقایا جات جمع ہونا اور رہائشی ماحول میں آلودگی یا دیگر مسائل کا سامنا کرنا بھی تیز حیاتیاتی بڑھاپے سے منسلک پایا گیا۔
ماہرین نے واضح کیا کہ حیاتیاتی عمر اور کیلنڈر کے مطابق عمر دو مختلف تصورات ہیں۔ کیلنڈر کے مطابق عمر کسی شخص کی پیدائش سے گزرنے والے وقت کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ حیاتیاتی عمر جسم میں ہونے والی ان تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہے جن سے جسمانی نظام کی عمر رسیدگی کی رفتار کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔
تاہم محققین کے نتائج سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کرائے کے مکان میں رہنا براہ راست ہر فرد کی حیاتیاتی عمر بڑھنے کی رفتار تیز کردیتا ہے۔ تحقیق میں ان عوامل کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے، جسے براہ راست سبب اور نتیجے کا ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔
محققین کے مطابق رہائشی حالات بہتر بنانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات عوامی صحت کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ ان اقدامات میں کرایوں میں اضافے کو محدود کرنا اور شہریوں کو زیادہ مستحکم رہائش فراہم کرنا شامل ہے۔
یہ تحقیق اس اہم پہلو کو اجاگر کرتی ہے کہ محفوظ اور مستحکم رہائش صرف معاشی ضرورت نہیں بلکہ عوامی صحت سے جڑا ہوا معاملہ بھی ہے۔